ضروری اور غیر ضروری [کتاب خلاصہ]

انسانوں کی اکثریت زندگی میں بہت سے کام کرنا اور بہت کچھ حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن اکثر اس “بہت” کے چکر میں ہم کچھ بھی حاصل نہیں کر پاتے۔ یہ ایک عام مشاہدے کی بات ہے کہ وہ شخص جو زندگی میں سب کچھ کرنا چاہتا ہے وہ اکثر کچھ بھی نہیں کر پاتا۔ لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس سب کا حل کیا ہے؟ اس سوال کا جواب Greg McKeown نے اپنی کتاب Essentialism: The Disciplined Pursuit of Less میں دینے کی کوشش کی ہے۔ یہ کتاب میری پسندیدہ کتابوں میں سے ایک ہے اور اس کتاب سے جو میں نے سیکھا وہ پیشِ خدمت ہے۔

ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ ہم ہر شعبے کے ماہر نہیں بن سکتے، ہر کتاب، کہانی، کھلونا نہیں حاصل کر سکتے اور دنیا پر موجود تمام ذائقوں سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے، کم از کم ایک عام انسان کی زندگی میں تو یہ سب ممکن نہیں۔ اس کے ساتھ ایک اور بات بھی جان لینا ضروری ہے کہ اگر کسی طور ہم سب کچھ کرلیتے ہیں یا پھر ہر وہ چیز جو ہم نے سوچی، حاصل کر لیتے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہمیں پھر سب خوشیاں مل جائیں گے۔یاد رکھیں خوشی سفر میں ہی حاصل کی جاسکتی ہے نہ کہ منزل پر پہنچ جانے سے خوشی ملتی ہے۔  “سب کر لوں” اور “سب لے لوں” کا بس ایک ہی نتیجہ نکلے گا، ہماری کاموں کی فہرست (Todo List) میں ایسے بے شمار کام اکٹھے ہو جائیں گے جو ہم کبھی نہیں کر پائیں گے اور ہماری الماریوں، کمروں اور درازوں میں ایسی اشیاء بھر جائیں گی جنہیں ہم کبھی استعمال نہیں کر سکیں گے۔

غیر ضروری (Non-essential) سے نجات تبھی ممکن ہے جب ہم کم اور عمدہ کام کریں، یعنی مقدار کی بجائے ہماری توجہ معیار پر ہو۔ہر غیر ضروری کام اور چیز کو اپنی زندگی سے نکالتے جائیں حتیٰ کہ صرف ضروری (essential) ہی باقی رہ جائے۔اس خیال اور تصور کو رد کر دیں کہ آپ کو سب کچھ کرنا ہے، اس کے بجائے کسی ایک شعبے کا انتخاب کریں اور اس میں کمال حاصل کریں۔Essentialism سے مراد یہ ہے کہ آپ بے شمار شعبہ زندگی میں چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کی بجائے کسی ایک شعبے میں مہان کامیابی حاصل کریں۔

غیرضروری سے نجات ایک دن میں ممکن نہیں ، یہ روزانہ کی بنیاد پر کیے جانے والا کام ہے۔ ہر روز، ہر وقت” آپ کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں ” کا سامنا کرنا ہو گا، کوئی بھی کام، کوئی بھی پراجیکٹ شروع کرنے سے قبل، کوئی بھی وعدہ کوئی بھی عزم کرنے سے پہلے اس سوال کا سامنا کریں اور  صرف اسی شے کو ہاں کریں جو واقعی آپ کی اقدار (Values)، اہداف (Goals) اور دیگر معاملات کے حوالے سے ضروری ہوں۔ ہر غیر ضروری کو نہ کہنے کا فن سیکھیں۔ کیا ضروری ہے کیا غیر ضروری، یہ ایک فن ہے اور یہ سیکھنا ہی پڑتا ہے، اگر ہم ضروری اور غیر ضروری میں فیصلہ نہیں کر پائیں گے تو پھر دیگر لوگ ہماری طرف سے یہ فیصلے کرنے لگیں گے، پھر لوگ یہ فیصلہ کریں کہ آپ کو کونسی تقریب میں جانا چاہیے، کونسی چیز خریدنی چاہیے اور کونسی ملازمت کرنی چاہیے۔

اگرچہ یہ بہت سادہ سا خیال ہے کہ ہمیں تمام غیرضروری کام، اشیاء، لوگ اور عزائم اپنی زندگی سے نکال دینے چاہیں، لیکن جب ہم یہ فیصلہ کرنے نکلتے ہیں کہ کیا ضروری ہے اور کیا غیر ضروری تو عموماً ہمیں لگتا ہے کہ ہم سب کچھ ہی کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں اگر آپ سب کچھ کرنے کی کوشش کریں گے تو یا تو بری طرح ناکام ٹھہریں گے یا پھر انتہائی غیر معیاری چیزوں، لوگوں اور کاموں سے اپنی زندگی کو بھر لیں گے۔ “کم مگر عمدہ (less but better)” کو اپنی زندگی کے ہر فیصلے کا اصول بنا لیں، زندگی آسان اور کامیاب ہو جائے گی۔

اپنے انتہائی مصروف نظامِ اوقات (Schedule)  میں کچھ وقت “کچھ نہ کرنے کے لیے” بھی رکھیں، یہ “ویلا ٹائم” آپ کو وقت دے گا سوچنے کے لیے کہ کیا ضروری ہے جو کرنا ہے۔ اپنے روزانہ کے شیڈول میں سوچنے کے لیے وقت ضرور رکھیں، اس وقت کے دوران آپ خود کو درپیش مسائل اور مصائب اور ان کے حل کے متعلق سوچ سکتے ہیں۔

تفریح زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے، یہ آپ کو نئے سرے سے کام کرنے کے لیے تیار کرتی ہے۔ اپنے مصروف نظامِ اوقات کے اندر کھیل کود اور تفریح کے لیے وقت ضرور رکھیں۔ یہاں ایک اور بات بھی بڑی اہم ہے، وہ یہ کہ تفریح کے ساتھ آرام اور سونے کی بھی اپنی اہمیت ہے، غلطی سے بھی تفریح اور آرام کو ایک نہ سمجھیں، دونوں کے لیے علیحدہ علیحدہ وقت مختص کریں۔

یہ بھی پڑھیں :   میری کہانی از اشتیاق احمد

جو چیز غیر ضروری ہے اسے بڑی بےرحمی سے اپنی زندگی سے نکال باہر کریں۔ تمام کام اور ذمہ داریاں اہم نہیں ہوتیں یا کم ازکم ایک جتنی اہم نہیں ہوتیں، صرف ضروری اور انتہائی اہم کو اپنی زندگی میں جگہ دیں باقی سب کو بے دردی سے کھرچ باہر نکالیں۔ اصول بنائیں اور پھر ہر حال میں ان کی پیروی کریں۔ ایک اصول جو اس معاملے میں زندگی کو آسان کر سکتا ہے وہ یہ ہو سکتا ہے، “اگر کسی سوال کا جواب واضع ہاں نہیں ہے تو اس کا مطلب صاف نہ ہے” (if it isn’t a clear yes, then it’s a clear no) ۔ اس کا ایک اور طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی بھی چیز ، شخص یا معاملے میں جب فیصلہ درکار ہو تو خود سے اس کی اہمیت کے متعلق مختلف سوال کریں اور پھر جوابات کی بنا پر فیصلہ لیں۔ آپ دو کاموں کا آپس میں موازنہ کر کے بھی اہم اور کم اہم دریافت کر سکتے ہیں۔

غیر ضروری کو فوراً “نہ” کہیں اور ضروری کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں۔ (Often times we should say no, and reserve yes only for the things that really matter)

نہ کہنا مشکل کام ہے، دوسروں کے جذبات کو تکلیف پہنچ سکتی ہے اور یہ چیز آپ کی اداسی کا باعث بن سکتی ہے لیکن یہ جان لیں کہ مستقل فائدے کے لیے وقتی اداسی اور تکلیف زیادہ بڑی قیمت نہیں، دوسری صورت میں “ہاں” کہ کر آپ مستقل پریشانی اور ناکامی مول لے سکتے ہیں۔

غیر ضروری اہداف (Goals) کو زندگی سے نکالنے کے بعد آپ کے اہداف زیادہ واضع (Clear) ہونے چاہییں۔آپ کا ہدف واضع ہے یا نہیں اس کی جانچ بڑی آسانی سے کی جا سکتی ہے، بس اپنے ہدف کو سامنے رکھیں اور خود سے سوال کریں کہ کیسے مجھے پتا چلے گا کہ میرا ہدف (Goals) حاصل ہو گیا ہے، اگر تو اس سوال کا جواب واضع ہے تو آپ کا ہدف بھی واضع ہے، دوسری صورت میں آپ کو دوبارہ سے اس پر غور کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر “میں وزن کم کرنا چاہتا ہوں” بڑا غیر واضع ہدف ہے۔ اس کے مقابلے میں اگر آپ کا ہدف “میں دو ماہ کے اندر4 کلو وزن کم کرنا چاہتا ہوں” ہو تو یہ زیادہ بہتر اور واضع ہے۔

جن کاموں کا کوئی مقصد اور مطلب نہیں، جن سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں لیکن ماضی میں کسی وجہ سے آپ نے ان پر کام شروع کر دیا ان پر صرف اس وجہ سے مستقبل میں بھی کام جاری نہ رکھیں کہ آپ نے ان پر وقت یا پیسہ لگایا ہے۔ اگر آپ کو ایک چیز کے غیر ضروری ہونے کا یقین ہو گیا ہے اور اس سے کسی فائدے کی امید نہیں تو محض انا کی خاطر اسے خواہ مخواہ جاری نہ رکھیں، بلکہ اس سے جان چھڑائیں۔

جو چیز آپ کو آپ کے اہداف  تک پہنچے  نہیں دے رہی ہے اسے پہچانیں اور اسے خود سے دور کر دیں۔ مشکلات سے نبٹنے کا ایک طریقہ پہلے سے ان کے لیے تیار رہنا بھی ہے، ہماری ایک بہت بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ ہم مان لیتے ہیں کہ جیسا ہم نے سوچا ہے اور جو ہم نے منصوبہ بندی کی ہے سب کچھ ویسا کا ویسا ہی ہو گا، حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا اس لیے ہر طرح کے حالات کے لیے تیار رہیں، جو بھی کام کریں، جب بھی کوئَی منصوبہ بندی کریں اس میں زائد وقت (Buffer Time)  ضرور رکھیں، یہ وقت آپ کے حالات و واقعات کے مطابق کم یا زائد ہو سکتا ہے۔

اگر آپ کو آج سے پہلے کوئی بڑی کامیابی ایک ہی کوشش میں مل گی تو مان لیجیے کہ آپ کی قسمت نے آپ کا بہت زیادہ ساتھ دیا، عموماً ایسا نہیں ہوتا۔ کامیابی عموماً ایک  کوشش میں  نہیں ملتی اور نہ ہی یہ اچانک سے آپ کی جھولی میں آن گرتی ہے۔ کامیابی چھوٹے چھوٹے حصوں بخروں میں آپ کی طرف آتی ہے اور اس کے لیے ہمیں بے شمار ناکامیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں اوراس کے حصول کے لیے  مسلسل کوشش کرنی پڑتی ہے۔ سو آپ نے کچھ بھی بڑا کرنا ہو، اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کریں، اپنے معمولات طے کریں اور پھر اپنے معمول پر سختی سے کاربند رہیں۔

کیا آپ سادہ، آسان اور پُرسکوں زندگی کے خواہاں ہیں؟
اپنا ای میل ایڈریس درج کیجیے اور میرا ہفتہ وار ای میل نیوز لیٹر جوائن کیجیے

احباب کے ساتھ شیئر کیجیے

فیس بک
ٹوئٹر
گوگل پلس
ای میل
فیس بک
ٹوئٹر
گوگل پلس
ای میل

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: !!معذرت، کاپی کی اجازت نہیں